Rud’e Amal
April 11, 2007 on 1:55 pm | In Khushboo |رّدِ عمل
گئے موسم کے کسی لمحے میں
تُونے اِس طرح پُکارا تھا مُجھے
جیسے مَدھم کا بہت میٹھاسُر
رُوح کا کوئی سِرا چُھوجائے
جیسے شبنم کا اکیلا موتی
جیسے اِک موجِ ہَوا کی صورت
رات کی رانی سے کُچھ رات کہے
جیسے بچپن کی سہیلی میری
شوخ لہجے میں تری بات کہے!
میں نے شرما کر جُھکالیں پلکیں
اِ ک عجب نشے کے احساس سے میری آنکھیں
خُود بخود بند ہُوئی جاتی تھیں
دیر تک خواب کے عالم میں رہی!
تیر ی آواز کہ اِک گونج بنی جس کے ساتھ
رُوح اَن دیکھے جزیروں میں سفرکرتی رہی
کبھی سمٹی،کبھی بکھری،کبھی مدہوش ہُوئی
چاند میں ، دشت میں ،شبنم میں،سمندر میں رہی
نیلمیں،ریشمیں دُنیا میں رہی!
آج لوگوں نے بتایاکہ اُنھوں نے دیکھا
اُسی لہجے اُسی انداز کے ساتھ
تیرے ہونٹوں پہ کسی اورکانام!
سوچتی ہوں کہ ترے لہجے کی اس نرمی پر
جانے اُس لڑکی نے کیا سوچاہو!
خواب،مہتاب،گلاب اور شبنم
نیل ،آکاش،سحاب اورپُونم
چاندنی،رنگ،کرن نکہتِ گل کا موسم
گیت،خوشبو،لبِ جُو،ترے بدن کا ریشم
یاترے ساتھ ہیں،شیزان سے کافی پی کر
تجھ سے اٹھلاکے کہاہو،کہ میری جان،چلولے آئیں
روبی جیولزر کے ہاں سے کوئی تازہ نیلم!
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^