Mufahemat
April 11, 2007 on 1:39 pm | In Khushboo |مفاہمت
زندگی کے لیے
اب تمھارا رویہ ،اچانک بہت صلح جُو ہوگیا ہے
(سمندر کی سرکش ہواؤں کو
جُوئے شبستاں کی آہستہ گامی مبارک!)
یہ اچھا شگن ہے
اگر پُھول آئے
تو پھر پنکھڑی پنکھڑی
اُجلے بادل کے خوابوں کی صُورت بِکھر جائے گی
سو ایسے میں ،جھکنے میں ہی خیر ہے!
بارشِ سنگ میں
خواب کے شیش محل کو کب تک بچائے رکھیں
اِتنے ہاتھوں میں پتھر ہیں
کوئی تو لگ جائے گا
اور پھر
گُھپ اندھیرے میں کب تک نظرکرچیاں ان کی ڈھونڈے
کیا یہ بہتر نہ ہوگا
کہ ایسی قیامت سے پہلے ہی
ان شیش محلوں کو ہم
مصلحت کی چمکتی ہوئی ریت میں دفن کردیں
اور پھر خواب بُنتی ہُوئی آنکھ سے معذرت کرلیں!
سو تم نے بھی اب
ایک ہاری ہُوئی قوم کے رہنما کی طرح
اپنے ہتھیار دُشمن کے قدموں میں رکھ کر
نئی دوستی کا لرزتا ہُوا ہاتھ اس کی طرف پھر بڑھایا ہے
اور میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے
کہ ہتھیار دینے کی اس رسم میں
کیا کروں
تمھاری چمکدار ،متروکہ تلوارکو
بڑھ کے چُوموں
کہ اپنے گلے پر رکھوں؟
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^